ذمہ دار کون؟
”جج صاحب! شادی کے دس سال بعد منتوں مرادوں، دعاؤں اور دواؤں سے جنم لینے والی بیٹی کو میں نے نہلا دھلا کر سکول بھیجا تھا، مگر واپس ریت، مٹی اور خون میں لتھڑی ہوئی ملی۔“ عدالت میں ماں کی آواز لرز رہی تھی۔ ہاتھ میں بیٹی کی وہی پانی کی بوتل تھی جو چھت کے ملبے سے نکلی تھی۔
”میری بچی سکول پڑھنے گئی تھی یا اس طرح مرنے؟“
جج صاحب نے چشمہ درست کرتے ہوئے کہا: ”کیا آپ کوئی ایسا گواہ پیش کر سکتی ہیں، جس سے ثابت ہو کہ اس واقعے کا اصل ذمہ دار کون ہے؟“
ماں نے دھندلائی ہوئی آنکھوں سے عدالت کے احاطے کا جائزہ لیا۔ وہاں ہر طرف قیمتی پہناووں اور جوتوں کی نمائش تھی۔ اسے لگا کہ ان چمکتے جوتوں تلے اس کی ممتا کے سچے آنسو کچلے جا رہے ہیں۔ اس نے غصیلی آنکھوں اور کانپتے لبوں سے کہا:
”جی ہاں! پورا شہر گواہ ہے۔ وہ مستری بھی جس نے ناقص میٹریل لگایا، وہ افسر بھی جس نے رپورٹ پر مہر لگائی، وہ مالک بھی جس نے فیسوں سے محل بنائے، مگر افسوس جج صاحب! اس قتل میں شریک سب ہیں، ذمہ دار کوئی نہیں۔“
مزید دیکھیں
دوست وائرس
لاک ڈاؤن مسلسل نافذ تھا۔ گلیوں میں ہو کا عالم اور فضا میں ایک ان جانا خوف رقص کر رہا تھا۔ شہر کی مصروف سڑکیں سنسان، بازار ویران، مسجدوں کے صحن خاموش اور چہروں پر ماسک تھے۔ اک جرثومے نے انسانوں کو ان کے اپنے ہی گھروں میں قیدی بنا دیا تھا۔ اس نے بہت سے گھر اجاڑے، کئی سانسیں چھین لیں، مگر انسان کو اس کی اوقات یاد دلا دی۔ کل تک جو تنہائی سزا تھی، آج وہی زندگی کی ضمانت بن گئی تھی۔ بڑے بڑے ملک، طاقت ور نظام اور مغرور انسان اس کے سامنے بے بس ہو چکے تھے۔ جب دنیا رکی تو انسان نے جانا کہ وہ چاند تک تو پہنچ گیا ہے، مگر اپنے رب اور اپنی سانسوں سے بہت دور نکل آیا ہے۔
ایک ننھا بچہ روز کھڑکی سے باہر دیکھ کر ماں سے پوچھتا: ”ماما! یہ کیسا دشمن ہے، جو دکھائی بھی نہیں دیتا؟“
ماں اسے سینے سے لگا کر کہتی: ”بیٹا! یہ ایک دشمن وائرس ہے، جس نے انسان کو انسان سے دور کر دیا ہے۔“
باپ، جو کبھی دولت کے تعاقب میں گھر سے دور رہتا تھا، اب مہینوں سے گھر میں تھا۔ پہلی بار اس نے بیٹے کو سبق پڑھایا، اس کے ساتھ ہنسا اور ماں بیٹے کے ساتھ سکون سے کھانا کھایا۔
بیٹے نے معصومیت سے کہا:
”ماما! یہ تو دوست وائرس ہے، اسی کی وجہ سے تو پاپا ہمارے ساتھ ہیں۔“
مزید دیکھیںلاک ڈاؤن مسلسل نافذ تھا۔ گلیوں میں ہو کا عالم اور فضا میں ایک ان جانا خوف رقص کر رہا تھا۔ شہر کی مصروف سڑکیں سنسان، بازار ویران، مسجدوں کے صحن خاموش اور چہروں پر ماسک تھے۔ اک جرثومے نے انسانوں کو ان کے اپنے ہی گھروں میں قیدی بنا دیا تھا۔ اس نے بہت سے گھر اجاڑے، کئی سانسیں چھین لیں، مگر انسان کو اس کی اوقات یاد دلا دی۔ کل تک جو تنہائی سزا تھی، آج وہی زندگی کی ضمانت بن گئی تھی۔ بڑے بڑے ملک، طاقت ور نظام اور مغرور انسان اس کے سامنے بے بس ہو چکے تھے۔ جب دنیا رکی تو انسان نے جانا کہ وہ چاند تک تو پہنچ گیا ہے، مگر اپنے رب اور اپنی سانسوں سے بہت دور نکل آیا ہے۔
ایک ننھا بچہ روز کھڑکی سے باہر دیکھ کر ماں سے پوچھتا: ”ماما! یہ کیسا دشمن ہے، جو دکھائی بھی نہیں دیتا؟“
ماں اسے سینے سے لگا کر کہتی: ”بیٹا! یہ ایک دشمن وائرس ہے، جس نے انسان کو انسان سے دور کر دیا ہے۔“
باپ، جو کبھی دولت کے تعاقب میں گھر سے دور رہتا تھا، اب مہینوں سے گھر میں تھا۔ پہلی بار اس نے بیٹے کو سبق پڑھایا، اس کے ساتھ ہنسا اور ماں بیٹے کے ساتھ سکون سے کھانا کھایا۔
بیٹے نے معصومیت سے کہا:
”ماما! یہ تو دوست وائرس ہے، اسی کی وجہ سے تو پاپا ہمارے ساتھ ہیں۔“
ان کے احوال جو اشعار میں آ جاتے ہیں
شعر مقدار سے معیار میں آ جاتے ہیں
اُڑ کے وہ نار سے گلزار میں آ جاتے ہیں
جو پرندے ترے دربار میں آ جاتے ہیں
دستکیں دوں میں اگر نامِ محمد لے کر
در کئی راہ کی دیوار میں آ جاتے ہیں
جیب میں خاکِ مدینہ لیے نکلے جو بھی
تاج ور دستِ خریدار میں آ جاتے ہیں
کام اَٹکنے لگیں، پڑھتا ہوں درود آقا پر
سب رکے کام بھی رفتار میں آ جاتے ہیں
ثور کا ہو کہ حرا کا، ترے دونوں طالب
بکر و جبریل ترے غار میں آ جاتے ہیں
پھول ہی ان کی رحیمی پہ نہیں مر مٹتے
خار بھی رحمتِ سرکار میں آ جاتے ہیں
آکسیجن اسے ملتی ہے اگر نعت کہے
ولولے پھر ترے بیمار میں آ جاتے ہیں